بھٹکل 10/ اپریل (ایس او نیوز) دہشت گردانہ معاملات میں ملوث بتاکر گرفتار کئے گئے بھٹکل مخدوم کالونی کے مولانا شبیر گنگائولی آٹھ سالوں تک قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد آج بالاخر رہا ہوگئے۔ شام ٹھیک 6:15 بجے تمام کاغذی کاروائیاں مکمل کرنے کے بعدوہ جیل کی کال کوٹھری سے باہر نکلے۔
APCR کی ضلع اُترکنڑا ٹیم ان کے استقبال کے لئےجیل کے باہر ہی موجود تھی، جیسے ہی مولانا شبیر جیل سے باہر نکلے، انہیں سیدھے رات کے کھانے کے لئے ہوٹل لے جایا گیا، جس کے بعد APCR والوں کے ساتھ ہی وہ بھٹکل کے لئے نکل پڑے۔ رات قریب 11:15 بجے مولانا شبیر بھٹکل پہنچے، اس موقع پر ان کے مکان کے باہر کافی کثیر تعداد میں مقامی لوگ جمع تھے جو مولانا کی رہائی پر بے حد خوش نظر آرہے تھے۔
مولانا شبیر بھٹکل مخدوم کالونی پہنچتے ہی قریبی مسجد پہنچ کر دو رکعت نمازِ شکرانہ ادا کیا، جس کے بعد وہ اپنے مکان کی طرف چل پڑے۔ مکان کے باہر ہی ان کی والدہ نورالنساء پھولوں کی مالا ہاتھ میں اُٹھائے بیٹے کے اندر آنے کا انتظار کررہی تھی، جیسے ہی مولانا شبیر نے گھر میں قدم رکھا، ماں نے اُسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اُس کے گلے میں پھولوں کا ہار پہنایا اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔
APCR کی جانب سے ان کا کیس ہینڈل کرنے والے وکیل ایڈوکیٹ ارشد بالور، اے پی سی آر کے ضلع اُترکنڑا کے کنوینر قمر الدین ، سرگرم رکن مولانا زُبیر مارکٹ ندوی، مخدوم کالونی کے اہم ذمہ دار اور بھٹکل میونسپل کونسل کے صدر مٹا محمد صادق سمیت کافی دیگر لوگ موجود تھے۔ اس موقع پر کئی لوگوں نے مولانا شبیر کو گلے لگاتے ہوئے پھولوں کی مالا اُن کے گلے میں ڈالتے ہوئے اُنہیں جیل سے رہائی ملنے پر مبارکباد پیش کی۔ اس دوران کچھ لوگوں نے اپنی طرف سے مٹھائیاں بھی تقسیم کیں۔